ساری عورتیں کا خیال رکھناچاہیئے۔




عورت سحری میں سب سے پہلے جاگتی ہے اور سب گھر والوں کے لیئے سحری تیار کرتی ہے لیکن سب سے آخر میں کھاتی ہے، روزہ رکھنے کے بعد دوپہر میں بچوں کو کھانا کھلاتی ہے۔ پھر 4 بجے کے بعد سے افطاری تک اپنے خاندان والوں کے لیئے افطاری تیار کرنے میں لگ جاتی ہے۔ چاول، پالک، گوشت، چٹنی وغیرہ تیار کرتی ہے اور ساتھ میں یہ ڈر بھی رہتا ہے کہ پتہ نہیں کیسے پکایا ہوگا۔ ساس اور سسر کے لیے الگ چیز پکاتی ہے۔ اور ساتھ ساتھ افطاری سے پہلے شوہر کے غصہ کو صبر سے جھیلنا بھی پڑتا ہے۔ اذان سے پہلے دسترخوان لگانا تعریف تو دور کی بات 2۔۔2 روٹیاں کھانے کے بعد ایک ٹھنڈا گلاس لسی مانگنا اور پھر کہنا کہ نمک کم ہے اور خاص ٹھنڈا نہیں ہے اور افطاری پوری کی پوری کر لی جناب نے۔ اسکے بعد چھپکے سے کسی کمرے میں افطاری کرلیتی ہے۔ تراویح کے بعد پھر سے حضرات کے لیئے چائے اور میوہ تیار کرتی ہے۔ اور پھر سے سحری میں سب سے پہلے جاگتی ہے۔ اگر خدا نخواستہ نہ جاگی 2 بجے یا سحری لیٹ ہوئی تو سب خاندان کا نزلہ بیچاری عورت پر گرتا ہے سارا دن۔ آپ سے درحواست ہے کہ گھر کی ساری عورتیں خواہ وہ ماں ہو بیوی ہو بیٹی ہو بہن ہو یا کوئی اور رشتہ ہو انکا لازمی خیال رکھنا چاہیئے۔ آخر وہ بھی ہماری طرح انسان ہے اس جہالت سے نکل آو، یہ معاشرتی پسماندگی ختم کرو... اس پیغام کو شیئر کریں جزاک اللہ

Post a comment

0 Comments